DESI KAHANIAN

sachi khanian, Desi kahanian, sexy kahanian,romantic kahnian,horror kahanian, drawoni kahanian,Urdu desi kahanian,Desi sexy kahanian,Kahani desi urdu,Urdu kahanian desi,Desi stories,Desi sexy stories,Desi aunty stories,Desi hot stories

Aurat ka aik bhyanak roop عورت کا ایک بھیانک روپ

 

Written by:  Arshad, Karachi 
عورت چاہے کسی روپ میں بھی ہو اُس کا ایک تقد س ہے ، لیکن یہی عورت اگر شیطانی روپ اختیار کرلے تو اپنی اور اپنے پیاروں کی عزت سرِبازار نیلام کر دیتی ہے اور اُس کے سبھی رشتے زندہ رہتے ہوئے بھی زندہ نہیں رہ پاتے ، معاشرہ اُنھیں جینے نہیں دیتا۔ عورت اگر بیوی کے روپ میں ہو تو ایک پورے خاندان کی داغ بیل ڈالتی ہے، لیکن یہی بیوی اگر بِگڑ جائے تو پورے خاندان کو زندہ درگور کر دیتی ہے ۔ اس میں کسی حد تک قصور وار مرد بھی ہوتا ہے ، جب مرد مذہب کو ایک مکروفریب سمجھ کر گھر سے نکال دیتا ہے ، اور بچوں کو نام نہاد روشن خیالی کے نام پر ایسے سکولوں میں داخل کرا دیتا ہے جہاں مذہب کو ایک غیر اہم چیز بتایا جاتاہے،بیوی اور بیٹی کو فیشن کے نام پر کھُلی چھُٹی دے دیتاہے تو یہی بیوی اور بچے جنسی ہوس کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر ایک دن مرد کے گریبان تک پہنچ جاتے ہیں اور اُس کی جائیداد کے لئے    اُسے قتل تک کرنے سے گریز نہیں کرتے تو پھر اُس مرد کو قسمت کا رونا نہیں رونا چاہیے                ۔ 
 
 
یہ کہانی ایک ایسی بیوفا عورت کی ہے جِسے جان کر انسان کا بیوی جیسے پاک رشتے پر بھی اعتماد اُٹھ جاتا ہے۔کریم حسین میرا بہت قریب دوست ہے ، وہ پہلے بہت غریب ہوا کرتا تھا ، پھر اُس کے ایک اور دوست جمیل جو ایک کاروباری آدمی تھا ، نے کریم کی بہت مدد کی اور دیکھتے ہی دیکھتے کریم حسین مال دار ہو گیا ۔ کریم خود تو کسی حد تک ایک مذہبی آدمی تھا اور ایمانتداری سے کمانے پر یقین رکھتا تھا لیکن اُس کا دوست جمیل کا مذہب سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں تھا بس دِن رات کاروبار میں لگا رہتا تھا ۔میری ملاقات جمیل سے ااکژو بیشتر کریم کے گھر ہو جاتی تھی اُ س کے تین بیٹے تھے عدنان، عمران ، اور عفان۔ تینوں بچے ایک بہت بڑے انگلش میڈیم پرائیویٹ سکول میں پڑھتے تھے ۔ایک مرتبہ میں نے جمیل صاحب سے کہا کہ جمیل صاحب ! بچے ماشااللہ آپ کے بہت ذہین ہیں بس تھوڑا بہت مذہبی تعلیم بھی بچوں کو دِلا دیں تا کہ بڑے ہو کر انجنیر یا ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی بن سکیں ۔ تو جمیل صاحب نے جھٹ سے جواب دیا ، یار مولویوں سے مجھے ویسے ہی ڈر لگا رہتا ہے ، عجیب و غریب ہی تعلیم دیتے ہیں بچوں کو کہیں بچے خودکُش بمبار ہی نہ بن جائیں ۔میں نے اُنھیں بہت سمجھایا کہ بھئی سبھی مولوی ایک  جیسے نہیں ہوتے۔ لیکن موصوف کسی کی سُننے کو تیار نہ تھے.                                                      ۔
میری پوسٹنگ اسلام آباد ہو گئی تو پھر تقریباََ گیارہ سال تک میری جمیل صاحب سے ملاقات نہ ہوئی، گزشتہ دِنوں جب میں واپس اپنے شہر آیا اور ڈیفنس میں اپنے دوست کریم سے ملنے گیا تو وہاں جمیل صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ جمیل صاحب بہت کمزور ہو گئے تھے اور سنبھل سنبھل کر چلتے اور بات کرتے کرتے اکثر کھو جاتے ، پہلی ملاقات تھی اس لئے میں نے اتنا کھل کر نہیں پوچھا ۔ کچھ دیر بیٹھے رہنے کے بعد وہ اپنے گھر چلے گئے تو میں نے کریم سے پوچھا کہ جمیل صاحب کو کیا ہوا ہے تواُس نے بتایا کہ جمیل اپنے بیوی بچوں کی وجہ سے دِل کا مریض بن بیٹھا ہے ۔ پھر اُس نے جو روداد سُنائی وہ قارئین کی خدمت میں حاضر ہے.                                                                                                                              ۔
کریم کاروبار بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ ترقی کرنے کے چکر میں لگا رہا اور جب شادی کی باری آئی تو اُس کی عمر کافی زیادہ ہو گئی تھی لیکن مال و دولت کریم کے پاس بے شُمار تھی اس لئے کریم نے اپنے سے بہت کم عُمر اور خوبصورت لڑکی سے شادی کی جس کا نام عظمٰی تھا ۔ عظمٰی اور کریم کی عُمر میں گیارہ بارہ سال کا فرق تھا ،عظمٰی جنسی طور پر نہائت پرُکشش اور دراز قد تھی ۔انتہائی فیشن کی شوقین ، کہیں مرتبہ رشتہ داروں نے کریم کو بتایا لیکن کریم پر تو روشن خیالی کا بھوت سوار تھا ۔ وقت گزرتا گیا ، کریم کے بچے ہو گئے لیکن عظمی نے اپنے چال ڈھال تبدیل نہ کئے ۔ بچے بڑے ہو کر کالج جانا شروع ہو گئے ۔ سب سے بڑے بچے عدنان کے ویسے تو بہت دوست تھے لیکن اُس کا ایک دوست حماد جو عمر میں اُسے سے تین چار سا ل بڑا تھا کافی آزاد خیال تھا ۔ حماد اکثر عدنان کے ساتھ گھر آتا تھا ۔ کریم کو حماد کا گھر آنا اچھا نہیں لگتا تھا وہ کہیں مرتبہ عظمٰی سے کہتا کہ یہ لڑکا ٹھیک نہیں ہے اس کو گھر آنے سے منع کرو ، لیکن سامنے عدنان کھڑا ہو جاتااور اپنے باپ کو ظالم باپ کہہ کر پُکارتا اور حماد کی صفتیں بیان کرنا شروع کر دیتا۔ عظمٰی کریم سے بحث شروع کر دیتی کہ بچے بڑے ہو گئے ہیں اپنا اچھا بُرا سمجھتے ہیں اور حماد ایک شریف لڑکا ہے اس کے ماں باپ نہیں اس لیے اکیلا پن دور کرنے کے لیے عدنان کے پاس آ جاتا ہے۔ بیچارہ کریم اولاد کی خاطر اُس کو اپنے گھر میں برداشت کرتا رہا.                                             ۔
وقت گزرتا گیا عدنان مزید تعلیم کے لئے کینیڈا چلا گیا اور عمران ملائشیا جب کہ چھو ٹا عفان ابھی تک سکول جاتا تھا۔لیکن حماد کا گھر آنا جانا کم نہ ہوا ۔ ایک دن عدنان نے کینیڈا سے فون کیا کہ حماد کی نوکری ختم ہو گئی ہے اِس لئے جب تک اُس کو نئی نوکری نہیں مل جاتی وہ میرے کمرے میں رہے گا۔کریم کو جب یہ پتا چلا اُس نے عظمٰی کو ڈانٹا کہ حماد ایک چھوٹا بچہ نہیں بلکہ ایک نا محرم مرد ہے اِس کو ہم گھر میں کیسے رکھ سکتے ہیں لیکن عظمیٰ نے رونا شروع کر دیا کہ حماد میرے بچوں جیسا ہے آپ مجھ پر شک کرتے ہیں ۔ اُدھر کینیڈا سے عدنان کا فون آگیا اُس نے پھر باپ کو خرافات سُنائیں تو چاروناچار کریم کو اجازت دینا پڑی لیکن اس شرط پر کہ وہ اُوپر والے کمرے سے سیدھا باہر آیا جایا کرے گا ، گھر کے اندر والے پورشن پر اُس کا آنا جا نا منع ہے۔ 
شام کو کریم گھر آتا تو حماد شارٹس اور بُنیان پہنے کبھی چھت پر تو کبھی لان میں گھُومتا ہوا نظر آتا ۔ کریم کو غصّہ تو بہت آتا لیکن کیا کرتا بچوں کی خاطر برداشت کرتا رہتا ۔ایک دِن کریم گھر آیا تو گھر میں سوائے چوکیدار کے کوئی بھی نہ تھا عظمٰی کو آواز دینے لگا ،تھوڑی دیر میں عظمٰی ہانپتی کانپتی چھت کی سیڑھیوں سے نیچے آ رہی تھی ، بال بِکھرے شرٹ ایسی پہنی تھی کے چھاتیاں باہر نِکل رہی تھیں ۔کریم غصّہ سے لال پیلا ہو گیا، تُم کہاں تھیں اور یہ کیا حُلیہ بنایا ہوا ہے تُم نے،عظمٰی نے جھٹ سے جواب دیا وہ حماد کو بہت تیز بُخار تھا تواُسے میڈیسن دینے گئی تھی۔کریم نے کہا کہ جب میں نے منع کیا تھا کہ اُس کے پاس کوئی نہیں جائے گا تو تُم کیوں اُس کے پاس گئی ہو اور وہ بھی اِس حُلیے میں۔عُظمٰی یہ سُن کر رونے لگی اور کہنے لگی ساری زندگی آپ کے ساتھ گُزر گئی لیکن آپ کی شک کی عادت نہیں گئی، میں تو اُس کی بیمار پُرسی کرنے گئی تھی ۔عظمٰی نے کینیڈا میں عدنان کو فون کر دیا ۔ عدنان نے کریم کو فون پر بدتمیز اور بد تہذیب باپ کہہ کر پُکارا اور ساتھ ہی ملائشیا میں اپنے بھائی عمران کو فون کر کے کہا کہ ہمارا باپ پاگل ہو گیا ہے ، ماں کے ساتھ ظُلم کر رہاہے ۔
ایک دِن ملائشیاسے عمران کا فون آیا کہ وہ اب ہاسٹل میں نہیں رہے گا بلکہ اُسے پیسے چاہییں تا کہ ایک فلیٹ لے سکے ۔کریم شفقتِ پدری سے مجبور تھا ، اُس نے عمران کو پیسے بھیج دئیے ۔الغرض عمران نے ملائشیا میں فلیٹ لے لیا۔ایک دِن کریم اپنے آفس میں کام کر رہا تھا تو کینیڈا سے عدنان کا فون آیا کہ پاپا اب ماما آپ کے ساتھ نہیں رہیں گی ، وہ آج کی فلائٹ سے ملائیشیا جا رہی ہیں جہاں وہ عمران کے ساتھ رہیں گی۔ کریم نے سوچا چلو یہ بہتر ہے کم از کم اُس منہوس حماد سے تو جان چُھوٹے گی ۔
اُس شام جب گھر آیا تو پتہ چلا حماد بھی کہیں جا چُکا ہے۔ کریم نے شُکر ادا کیا چلو اِس مُصیبت سے توجان چھوٹی۔تقریباََ ایک ہفتے بعد عمران کا ملائشیا سے فون آیا کہ پاپا ، ماما اب آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی وہ حماد سے شادی کرنے جارہیں ہیں کل اُنکا نکاح ہے ، کریم کی تو جیسے جان نِکل گئی کہ اُس کا اپنا بیٹا یہ کیا بکواس کر رہا ہے، نا طلاق ہوئی وہ کیسے اُس لڑکے سے شادی کر سکتی ہے جِسے وہ اپنا بیٹا کہتی تھی۔اُس نے جلدی سے عدنان کو کینیڈا میں کال کی کہ تُمھاری ماں کیا گُل کھِلانے جا رہی ہے لیکن آگے سے عدنان کا جواب سُن کر تو وہ اور بھی حیران ہو گیا، عدنان نے کہا ابو ماما ساری عُمر آپ کا ظُلم سہتی رہی ہیں اب اگر وہ اپنی نئی زندگی شروع کرنا چاہتی ہیں تو آپ کو کیا پریشانی ہے آپ بھی دوسری شادی کر لیں ۔کریم کے پاؤں سے زمین نِکل گئی وہ اپنے بچوں کا اِ س طرح کا روّیہ دیکھ کر پاگل سا ہو گیا تھا ۔
کریم نے آفس میں جانا چھوڑ دیا ، گھر میں ٹہلتا کبھی کیا سوچتا کبھی کیا، آخر اِس لڑکے نے ایسا کیا جادو کر دیا کہ میرا سارا گھر میرے خلاف ہو گیا ۔ شام کو عفان جب سکول سے آیا باپ نے اُسے ساری کہانی سُنائی تو عفان نے کہا ،سو واٹ پاپا !آفڑ آل حماد اِز نائز پرسن، اور برائے مہربانی مجھے اِس معاملے سے دُور رکھیں پلیز.                                                                                                              ایک دِن اُس نے چوکیدار اور آیا کو بُلایا اور پوچھا کہ میرے پیچھے کیا ہوتا رہاہے، تو جو کہانی اُنھوں نے سُنائی وہ دِ ل دھلا دینے والی تھی ۔ چوکیدار نے کہا صاحب! ہمیں بیگم صاحبہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر آپ کو کچھ پتہ چلا تو ہماری نوکری چلی جائے گی، اور وہ ہم پر چوری کا پرچہ کرا دیں گی۔بیگم صاحبہ اور وہ لڑکاپورا دِن بُرہنہ حالت میں اوپر کمرے میں گندی فلمیں دیکھتے رہتے تھے۔اُس لڑکے نے تو بیگم صاحبہ کو نشے پر بھی لگا دیا تھا ۔ آپ کے بچوں کو جائیداد کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا تھا ۔ پہلے پہل تو اُنھوں نے آپ کو زہر دینے کی بھی کوشیش کی ، لیکن پھر خود ہی ڈر گئے۔ پھر اُنھو ں نے آپ کی جائیداد کی تمام کاغذات جعلی بناتے رہے۔جب کریم نے یہ جعلی کاغذات کا سُنا تو وہ فوراََ الماری کی طرف بھاگا ، جب الماری کھولی تو کیا دیکھا تمام جائیدادکے کاغذات غائب تھے۔تب کریم کو ساری کہانی سمجھ آگئی             ۔
پھر ایک دِن عدالت سے اُسے جائیداد کا سمن ملا اور اب کریم عدالت کے چکر کاٹ رہاہے۔بڑھاپے میں جب انسان کو اپنی اولاد کی ضرورت ہوتی ہے بیچارہ کریم نہ صرف اکیلا رہ گیا بلکہ معاشرے میں جینے کا حق بھی کھو بیٹھا ۔ اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمیں اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔امین                                                                                                         ۔ 

 

Sohail or Texi Driver ki Biwi                           Ctegory Sexy Kahanian

 Sohail rawalpindi glass factory ka rhaishi tha or aik honhar or zaheen larka tha apnay chay behan bhaion main sab say bara tha or aik maqaami sarkari daftar main mulaazim tha. Sohail har roze subah saweray daftar kay liay nikalta to main bus stop per aanay kay liay usay kaafi galion say guzarna parhta tha. Aisay hi who aik din apni gali say peechay wali gali say guzar raha tha to us ki nazar aik aunty per parhi jo umar main taqreeban 30-31 saal ki thi jo apny shohar ko darwazay per khuda hafiz kehnay aai thi. Sohail jab bhi subah wahan say guzarta who aunty darwazay per apnay shohar ko khuda hafiz kehnay aati or usay lunch box bhi deti. Sohail nay socha kitni wafadar aunty hay .

Aik din isi tarha guzartay hooway us ki nazar aunti per parh gai jo usay dekh rahi thi. Sohail nay sar jhuka lia or guzar gaya. Ab aunty ka sohail ki taraf dekhna aik maamool ban gaya , sohail parehsan ho gay kay yeh maajra kia hay aunti usay kioon ghoorti hay. Aik din sohail daftar kay liay guzar raha tha to kia dekhta hay aunti ka shohar nahin hay or aunti darwazay kay peechay chup kar khari hay. Aunti nay sohail ko apni taraf aanay ka ishaara kia , sohail dartey hooway aagay barha yeh soch kar kay shaid us ko kisi madad ki zaroorat hay, laiken joon hi wo aunti kay paas gaya aunti nay usay aik choti si chit di or chali gai. Us nay us chit ki taraf dekha to foran chit ko muthi main band kar kay bhaghnay laga us ka dil taiz taiz dharaknay laga.

Daftar jatey hooway jab us nay chit ghor say dekhi to us per likha hoowa tha mujh say is number per raat ko baat karna.  Sohail us raat ghar ki chat per ja kay us number per dial kia to doosri bell per hi aunti nay number utha lia. Aunti nay kaha kay who isi waqt us say milna chahti hay, pehlay to shohail nay inkaar kia laiken jab us nay bataya kay mera shohar aik haftey kay liay gaoon gya hoowa hay to tab sohail nay socha milnay main kia harj hay. Who usi waqt us kay ghar gaya to darwaza pehlay say khula howa tha. Who andar gaya to kia dekhta hay aunti bara khubsoorat libaas pehan kar or kushboo waghera lagar kar us ka wait kar rahi thi.

Aunti nay sohail ko bethaya or us say bataya kay us nay zindagi main kabhi muhabat nahin ki or yeh shadi us kay bachpan main arrange kar di gai thi, is liay who us say muhabat karti hay, or us nay wada kia kay yeh raaz hamesha raaaz rahay ga or is kay ellawa or bohat si  raaz o nayaaz ki baatain karnay lagi. Sohail ko or kia chahyeh tha muft main aik aurat apnay aap ko us kay saamnay pesh kar rehi thi. Donon nay nay pehli mulaqaat main hi kississing shooroo kardi . phir kia tha us haftey to sohail nay aunti kay saath aik din main kaheen kaheen martaba sex kia. Aunti sham ko apnay donon bachon ko tuition chor aati, shohar us ka raat ko 10 bajay kay baad main aata. Peecha y sohail hota or aunti,or is saary sisalay ko aik saal guzar gaya  

phir sohail kay doston nay mehsoos kia kay sohail kamzore hota ja raha hay. Aik din sohail nay bataya kay us kay peshaab main khoon a raha hay. Jab doctor ko check karaya to doctor nay kaha  kay sohail ko aik khas kisam ka viral infection ho gaya hay, jo haamla aurat  ya khas dinon main aurat kay saath sex karnay ki waja say hota hay. Yeh viral infection itna khatar naak hay kay sohail ki jaan bhi ja sakti hay. Jab sohail ko yeh pata laga to us nay aunti ko bohat gaalian din laiken ab kia ho sakta tha. Ghalat kaam kay ghalat hi nateeja nikalta hay. Sohail aaj tak apna elaaj karwa raha hay . usay her maheenay apnay blood tests karwanay parhtay hain. Aunti nay jab sohail ki haalat kay baray main suna to us nay who ghar jo us nay kraay per lia tha chor dia or kisi doosri jaga  chali gai.

One night stay in Descent Hotel Lahore      Category: SEXY KAHANIAN

 Wesay to sab kahanian aik si hoti hain laiken kuch kahanian aisi hoti hain jo insaan ko heraan honay kay saath saath pereshan bhi kar deti hain inhi main say meri aik kahani yeh bhi hay.

Mera naam Omer hay or main aik federal ministry main kaam karta hoon. Last November 2012, main or meray office kay kuch doston nay programme banaya kay Lahore ghoomnay jaatay hain. Meray doston main Tariq, Sohail, Naseer or Zahid shamil thay (Zahid hamaray office ka nahin tha balkay Tariq sahab ka dost tha jo wesay hi saath chal para tha).

Jis din hum nay Lahore janay ka programme banaya usi din hum nay train kay tickets khareeday or raat ko 12 bajay pindi say lahore janay ka programme banaya.

Lahore jaatey hooway hum nay bohat shughal kia, mujhay sab kuch bohat aacha lag raha tha, mazaak kartey hooway achanak Tariq sahab nay mazaak main kaha kay Lahore main hum sex bhi karain gay. Yeh baat meri samajh main jab aai to main ghabra gaya. Kioon kay main apnay group main akela kam umar or gher shadi shuda tha. Tariq sahab hum sab main her lehaaz say senior thay. Main ghabra gaya kaheen yeh sab meray saath……………………

Meri jan main us waqt jaan aai jab mujhay pata chala kay meray saath…..nahin balkay kisi larki kay saath. Phir bhi baat perashani ki thi kioon kay main nay is say pehlay kabhi sex nahin kia tha or na hi kisi larki ko live naked dekha tha or na hi main kisi kism ka guna karna chahta tha.

Lahore jab hum train say utray to talash thi aik hotel ki jahan hum raat ko ra sakain din ko to wesay bhi ghoomnay kay liay aay thay. Tariq sahab ko talash thi aik aisay hotel hi jahan sex kay liay larkian available hon. Railway station kay qareeb hi aik hotel jis ka naam shaid "Modern hotel tha" ka intekhab kia gaya. Hotel kaafi saaf suthra tha. Hum us main thehray to zaroor laiken tariq sahab kay liay who hotel fazool tha kioonkay us main sex kay liay larkian mojood nahin thin.

Tariq sahib nay 2 din baad faisla kia kay hotel change kia jaay kioon kay is main who kuch nahin tha jo tariq sahib ko chahyeh tha. Aik din hum ghoomnay kay liay bahir niklay to road per aik aadmi saamnay agaya kehnay laga "Baboo ji kamra chahyeh". Tariq sahib pehlay hi tension main thay foran bolay larkian hain thumharay hotel main?. Pehlay to who aadmi ghabra gaya laiken bad main who tariq sahib ko pakar kar aik side per lay gaya.

Thori dair secret gup shup karney kay bad tariq sahib hanstay hooway aay or kaha bhaio hum aaj sham wapis nahin ja rhay balkay hotel change karain gay. Tariq sahib nay foran order kia Naseer or Zahid tum donon ja kar ticket cancel karao, mujhay hukam mila kay tum idhar hi ruko main or sohail is aadmi kay saath ja kar Hotel check kar aatay hain. Main udhar road per hi ruka raha, kaafi dair guzar gai main akela udhar road per sab ka wait karney laga. Kaafi dair bad naseer or zahid ticket cancel kra kar wapis aa gay laiken tariq sahib phir bhi wapis na aay. Kuch hi dair main tariq or sohail hanstay muskuraatay hooway aay or kaha chalo bhaio samaan doosray hotel main shift karain. Jab hum samaan shift karney gay to pata chala kay nay hotel ka naam "Descent Hotel" hay or who hamaray pehlay hotel kay qareeb hi hay. Jab hum pehlay hotel say clearance lay kar doosray hotel main gay to pata chala kay Lahore main "Descent hotel" kesay hotey hain!!!!!!.

Bohat ganda hotel tha raastay bhi bohat tang thay or kamray bohat kharab thay. Hotel main rehnay walay loge bohat kam nazar aa rahay thay. Hum sab nay pesay bachaanay ki waja say aik hi baray kamra ki demand ki, kamra bhi mil gaya laiken kamra bohat hi ganda tha. Washroom main jaanay ko ji nahin chahta tha.

Main kuch dair kay liay kamray say bahir aaya to mujhay ooper chaat per say halki halki cheekhon ki awaaz aa rahi thi, main samajh gaya kay ooper maamla gar bar hay. Main foran andar aaya to andar tariq sahib or dalaal (jo bahir mila tha) kay darmiaan pesoan kay maamlay per behas ho rahi thi. Tariq sahib sakhat ghusay main thay, who 1000 rupay main larki ko saari raat apnay kamray main rakhna chahtay thay. Laiken dalaal ka kehna tha 1000 rupay main aap ooper jaain kamray main shot laga kar wapis aa jaain or agar aap larki ko saath rakhna chahtey hain to 3000 rupay lagain gay. Tariq sahib keh rahay thay kay main 3500 doon ga laiken larkian 2 hon gi. Dalaal ka kehna tha kay 2 larkion kay liay who kam say kam 5500 lay ga. Tariq sahib or Dalaal kay darmian bohat behas hooi yahan tak kay tariq sahib ghusay main aa kar dalaal ko dhapar maarnay lagay thay. Itnay main or bhi dalaal aa gay or maamla zayada kharaab ho gaya. Phir hum sab nay mil kar maamla settle kar dia or teh  yeh hoowa kay 3000 main larkian 2 hon gi or shot lagaanay kay liay tariq sahib or group ka koi larka raat ko ooper ja kar shot laga sakta hay.

Ab baari aai meri, main sex nahin karna chahta tha is liay meri talaash thi aik separate single room kamra jo saaf suthra ho. Main nay tariq sahib say kaha kay main is kamray main nahin rahoon ga, kioon kay main sirf sona chahta hoon yaha main raat ko disturb hoon ga. Tariq sahib nay dalaal ko phir bulaaya or meray liay separate kamray ka kaha. Dalaal nay thora time lia or wapis chala gaya. Thori dair bad jab dalaal wapis aaya to us nay kamra dikhanay kay liay saath chalnay ko kaha. Main us kay peechay peechay chal para. Aagay jo hoowa who na qabil-e-yaqeen tha.

Dalaal mujhay ooper lay gaya udhar jo main nay dekha mujhay apni aankhaon per yaqeen nahin ho raha tha. Tamaam kamron main sex ho raha tha. Kisi kamray main aik aadmi kay saath do larkian thin, kisi kamray main aik larki kay saath 2 ya zayada aadmi thay. Is tarha lag raha tha kay sex ki factory lagi ho or order per sex ban raha ho. Aik kamray kay saamnay say jab main guzra to aik larki roti hooi bahir nikli, laiken kisi nay usay andar say pakar kar khench lia. Aik or kamray say aik aurat bahir nikli or who gaalian bak rahi thi, or dalaal ko maarnay kay liay dori or usay kaha too kesay ganday customer lay aata hay, dalaal nay peechay hat kar khud ko bachaya or jawaab main usay aik gandi si gaali di. Aik or kamray kay saamnay say guzra to aik moti boorhi aurat darwaaza khatka rahi thi or keh rahi thi jaldi karo time over ho gaya hay. Akher mera kamra aa gaya , laiken who kamra thora or toilet zayada lag raha tha. Har jaga condoms parhay hooway thay. Aik ganda condom to bed kay ooper para hoowa tha. Main nay wahan rehnay say inkaar kia or jaldi jaldi wapis neechay apnay kamray main aa gaya or phir saari soorat-e-haal tariq sahib ko bata di.faisla yeh hoowa kay main neechay hi rahon ga. Laiken jis kisi nay sex karna hay who khamoshi say ooper ja kar sex kar aay.

Tariq sahib nay dalaal ko kaha kay ab itna kaam karay, koi 4 larkian laay jin main say hum 2 select karain gay. Is nai farmaish per dalaal heraan ra gaya. Laiken tariq sahib ki yeh farmaish poori karnay per raazi ho gaya.  Thori dair main 4 larkian neechay aain, dekhanay main who jhugi main rehnay waalion ki tarha lag rahi thin. Aik moti aik choti aik patli aik lambi, tariq sahib nay aik moti or doosri lambi ko select kia or baqion ko wapis kar dia.

Us kay bad main to so gaya Tariq, Sohail or Zahid raat ko baar baar ooper jaatey rahay. Naseer ooper sex kay liay nahin gaya kioon kay Naseer ko main nay mana kia tha kay is kaam main na parhay yeh sab guna hay or tumharay chotay chotay bachay hain un per asar parhay ga. Naseer nay meri baat sun li or ooper nahin gaya.

Subah saweray jab hum hotel chorney lagay to meray sab dost pehlay hi bahir nikal gay. Meray paas samaan zayada tha is liay main akhir main nikla. Jab main seerhian utarnay laga to ahista ahista utar raha tha kioon kay saamaan zayada tha, achanak peehcay say awaaz aai “bhai ladies aa rahi hain raasta dain”. Peechay mur kar dekha to aik aadmi jis nay bacha uthaya hoowa tha or us kay peechay aik aurat jis nay naqaab kia hoowa tha. Main pehchaan gaya tha yeh wohi aurat thi jis kay saath tariq sahib nay sex kia tha or jis ko tariq sahib nay select kia tha, jab us aadmi nay kaha kay raasta to do ladies aa rahi hain” mujhay ghusa to bohat aaya per kia karta raasta to dena parha.

Us kay baad hum hum wapis pindi ki tickets leen or wapis ka safar shooroo kia laiken…………………………..tariq sahib abhi bhi heera mandi jaaney ki tayari ka soch rahay thay.

 

Ambulance main SEx                                     Ctegory Sexy Kahanian

 Sohail larkion kay maamlaymain aik behtreen shikaari tha, us ki apni koi zaati pasand or napasand nahin thi, who hamesha unhi larkion ko apna shikaar banaata jo kisi bhi haalat main desperate hotin, Shagufta sohail kay muhallay main sab say kam umar larkion main shaamil thi, Sohail wesay to bohat si larkion ko apna shikaar bana chuka tha, chaar saal pehlay tak to sohail shagufta ko aik baachi samajhta tha laiken jesay hi us ki umar 14 saal ko pohnchi , shagufta ki athkelion nay sohail ko us ki taraf matawajo karna shooroo kar dia. Shagufta aksar sohail kay ghar us ki sisters say milnay aati thi. Aik din sohail nay shagufta ko bohat ghor say dekha to faisla kar lia kay is larki kay saath main sex karoon ga. Sohail nay dekha kay shagufta kay paas mobile bhi hay. Shagufta ki aik relative aunti jo shagufta ki saghi khaala thi wo sohail ka bohat purrana shikaar thi. Aunti ka mobile number sohail kay paas tha,Shagufta tak pohnchanay kay liay sohail nay aunti ka sahaara lia, or aunti say shagufta ka number lay lia. Us number per ahista ahista sms karna shooroo kar diy  pehlay to shagufta ko kuch na samajh na aaya phir ahista ahista wo line per aanay lagi. Phir aik din sohail nay shagufta ko phone kar dia  or phone per usay sab kuch bata dia pher kia tha shagufta sohail kay khawaab dekhnay lagi laiken sohail kay zehan per kuch or tha us nay shagufta ko sex ki taraf maail karna shooroo kar dia. Aik din shagufta kuch khanay ki cheeze sohail kay ghar denay aai sohail nay darwaaza khola shagufta nay sohail ko dekh kar ser jhuka lia us din sohail kay ghar main sirf us ki choti sister thi sohail nay shagufta ko darwaazay per hi pakar lia or gate band kar kay gate kay saath hi kissing shooroo kar di sohail nay itini hard kissing ki kay agar andar say us ki choti sisterki awaaz na aati to who wahin sex kar deta.

Din guzartey gay sohail or shagufta kay darmiaan haftey main aik martaba kissing ho jaati. Ab waqt aa gaya tha kay shagufta ko sex per amaada kia jaay is kay liay us nay shagufta ko bohat khawaab dikhaay. Ab shagufta aik masoom baachi nahin rahi thi balkay bohat kuch jananay lagi thi.

Rawalpindi saddar main sohail ka aik dost  pervez tha jo aik show room kay store per raat kay waqt night duty deta tha. Us say sohail ki kaafi gup shup thi. Us nay sohail ko yaqeen dilaaya kay wo aik raat kay liay sohail kay liay aik kamray ka bandobast karay ga. Laiken shart yeh thi kay sohail kay sex kay bad us ki baari ho gi.sohail  is shart per razi ho gaya.

 

Udhar pervez nay is baat ka zikar apnay aik or dost tariq say kar dia, tariq nay pervez say kaha kay agar tum logon nay mujhay beech main shamil na kia to wo yeh game nahin honey day ga, pervez nay is baat ka zikar sohail say kia. Sohail nay pehlay to is pervez per ghusa kia laiken phir larki ko zayada takleef na denay ki shart per razi ho gaya,

Aik raat pervez nay red signal day dia or sohail ko raat Noo bajay show room per bula lia.Sohail nay shagufta say baat ki or shagufta ghar per saheeli say milnay ka bahana kar kay nikal aai. Donon motorcycle per sawar saddar show room per pohanch gay

Pervez nay gate khola andar show room kay plot main bohat si gaarian khari thin . andar aik kamra tha jo kaafi khula tha or us kay andar light  jal rahi thi. Sohail , shagufta ko kamray kay andar lay gaya us, nay kamray kay andar tamam khirkayan band kar din. Pervez kamray say bahir chala gaya, shagufta is kaam kay liay pehlay hi tayar thi. Abhi donon nay baa mushkil kapray utaaray hi thay kay bahir gate per kisi gaari kay aanay ki awaaz aai. Pervez nay jaldi say sohail ko awaz di kay boss gate per a agaya hay, us nay sohail ko bahir aanay ko kaha , sohail shagufta ko lay kar jab bahir aaya to donon kay nay aadhay kapray pehnay hooway thay. pervez nay donon ko saamnay ambulance main chalay jaanay ko kaha.

Sohail or shagufta donon apnay kapray pakray hooway saamnay ambulance main ghus gay or back door band kar lia. Itnay main boss nay bahir say gate per horon bajana shooroo kar dia. Pervez nay jaldi jaldi say gate khola to boss or us ka aik or dost gaari andar lay kar aa gay. Boss or us ka dost nay  bajaay kamray main jaanay kay unhon nay  wahan gaarian check karna shooroo kar di. Pervez ki pareshanian barh gaeen. Boss nay pervez ki taraf dekha or kaha pervez tum itni jaldi so jaatey ho to gaarion ki hifaazat kon karay ga. Pervez nay kaha boss main itni jaldi sota nahin bus aankh lag gai thi,

15 minutes kay baad boss jab chalay gay to pervez ki jaan main jaan aai. Udhar ambulance kay andar sohail or shagufta jo kaafi dair say dubkay bethay thay un ki jaan main jaan aai. Itni dair main pervez nay tariq ko phone kar dia, tariq bhi kuch dair bad motorcycle per pohanch gaya.

Sohail or shagufta  andar sex karnay lagay. Shagufta ki halki halki cheekhon ki awaazain bahir tak aa rahi thin. Car store aik weeraan plot main honey ki waja say kisi doosray ka sunana itna asaaan nahin tha.ambulance kay andar kisi kay girnay ki bhi awaazain aa rahi thin. Sex karney   kay baad jab khud ko saaf karneyki baari aai to. Wahan koi cheeze mojood nahin thi, achaanak sohail ki nazar aik rooi kay packet per parhi. Us rooi say donon nay khud ko saaf kia.

Udhar bahir Tariq or Pervez donon wait kar rahay thay kay kab sohail ka programme khatam ho or who andar jaaen.achanka ambulance ka  pichla darwaaza khula to pervez jaldi say ambulance kay andar chala gaya. Andar shagufta pervez ko dekh kar gharbra gai, us nay pervez say kaha kay agar tum meray paas aay to main cheekhaiin marna shooro kar doon gi. Pervez dar gaya or wapis bhagta hoowa nikla laiken doosray hi lamhay tariq andar chala gaya. Or us nay shagufta kay moon per haath rakh kar us kay sath sex karnay laga. Tariq nay shagufta kay saath itna hard sex kia kay shagufta bayhosh honay wali thi.

Laiken pervez nay khud ko is ganday kaam say bachaa lia, shaid is liay kay kaheen pakra na jaay.

Sex karney kay baad who teeenon shagufta ko lay kar kaamray main chaalay gay. Usay behlaya phuslaya, or usay kaafi saaray pesay bi diyay . Tariq nay baad main aik mobile bhi lay kar denay ka waada kia. Jo us nay baad main lay kar day dia. Sohail nay wapsi per shagufta ko bohat see  cheezain bhi lay kar denay ka waada kia, laiken shagufta khamosh thi or us ki aankhon say ansoo nikal rahay thay.

Aaj shagufta ki shaadi ho chuki hay uskay baachay bhi hain………………………………laiken…….us nay sohail ko kuch  din pehlay phir phone kar dia…………………………………..

فخش فلمیں دیکھنے کے نتائج               Category: Sexy Kahanian

 

Fahash Filmain dekhnay kay ntaaij by Ikram Ullah 
بلا شُبہ موبائل فون جدید ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار ہے، لیکن اس کا غلط استعمال انسانی زندگی کو دیمک کی
طرح چاٹ جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی واقعہ گوجرانوالہ میں پیش آیا ، جس کی روداد کچھ یو ہے کہ بارہ سالہ بچہ عظیم اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لئے کمبل ، کھیس بنانے کے ایک چھوٹے سے کارخانہ میں کام کرتا تھا، مگر بری صحبت اور موبائل پر فحش فلمیں دیکھنے سے اس کا ذہین شیطانی کاموں کی طرف مائل ہو گیا 
اور پھر کیا تھا وہ اتنی چھوٹی سی عمر میں تین سالہ بچی کا قاتل بن بیٹھا ۔
 
 
یہ واقعہ تھانہ دھلے کے علاقہ جاوید ٹاؤ ن شاہین آباد کا ہے۔یہاں کے ایک رہائیشی محمد الطاف نے اپنے گھر 
کے ایک کمرہ میں دو مشینیں لگار رکھی تھی، جن سے گرم کمبل اور کھیس تیار کئے جاتے تھے۔ محمد الطاف کے پاس اس کے علاقہ کا ہی رہائشی محمد ندیم آیا اور کہا کہ اس کے چھے بچے ہیں ، میرے گیارہ سالہ بیٹے محمد عظیم کو کام پر رکھ لو۔ محمد الطاف جو خود بھی پانچ بچوں کا باپ تھا ، اس نے محمد عظیم کو کام پر رکھ لیا اور اس کو اپنے بچوں کی طرح پیار کیا، تین ماہ گزرنے کے بعد محمد الطاف نے ملزم بچے کو ماہانہ چھے ہزار روپے تنخواہ دینی شروع کر دی ، کام کے دوران عظیم بازار سے گھریلو سامان بھی لا کر دیتا تھا۔ عظیم سوا سال تک الطاف کے گھر کام کرتا رہا۔ 8مئی 2016ء کی صبح عظیم کو اس کی مالکن نے پیسے دےئے اور کہا کہ کریانہ سٹور سے کالے چنے لے آؤ ۔ عظیم آدھے گھنٹے بعد سودا لے کر واپس آگیا اور کارخانہ میں کام کرنے لگ گیا۔ اسی دوران خبر ملی کہ الطاف کی تین سالہ بچی ذونیرہ نہیں مل رہی۔ الطاف نے گھر کے پاس ہی دکانوں پر پتا کیا مگر کوئی خبر نہ ملی اور نہ ہی کسی نے بچی کو کہیں جاتے دیکھا۔الطاف نے مساجد میں اعلانات کرائے اور کارخانہ میں کام کرنے والے تین کاریگروں کو بھی تلاس پر لگا دیا مگر بیٹی کی کوئی خبر نہ تھی ، بالآ خر تلاش ختم ہوئی اور کچھ لوگ دوڑے ہوئے الطاف کے گھر آئے کہ ذونیرہ کی تو لعش قریبی قبرستان میں پڑی ہے۔ الطاف دوڑتا ہوا گیا اور فوری بچی کو گود میں اُٹھا لیا، جس کے منہ میں ایک شاپر بیگ ٹھونسا گیا تھا اور گلے پر کچھ نشانات بھی تھے۔بچی کو قریبی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا مگر وہ دم توڑ چکی تھی۔ علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گئی ، فوری طور پر تھانہ دھلے کو اطلاع دی گئی۔ خبر میڈیا پر چلتے ہی وزیرِاعلی پنجاب نے نوٹس لیا اور سی پی او سے جواب طلب کر لیا جس کے بعد سی پی او وقاص نذیر اور ایس پی سٹی نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد تین ٹیمیں بنا کر فوری 
قاتل کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔
                   
 
ذونیرہ کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا، جس میں زیادتی یا بدفعلی نہ ملی اور موت کی وجہ سانس گھٹنا بتیا گیا، پولیس نے ابتدائی طور پر شبہ معں علاقہ کے نشہ کے عادی افراد جن میں الطاف کا چھوٹا بھائی میں شامل تھا ، کو پکڑ کر تفتیش کی لیکن کچھ نہ ملنے پر دو ہفتہ کے بعد سب کو چھوڑ دیا گیا۔ ادھر سی آئی اے کی ٹیم بھی اپنا کام کر رہی تھی مگر کوئی کامیابی نہ مل رہی تھی ، اسی طرح وقت گزرتا گیا اور سات ماہ گزر گئے الطاف کا صبر جواب دے گیا اور پھر اہلِ خانہ نے الطاف کا ساتھ دی اور سی پی او آفس ، ایس پی سٹی کے آفس کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے گئے مگر پولیس کو کیس اندھیری گلی میں ہی جاتا دکھائی دیا۔ دُشمنی ، لڑائی جھگڑے ، ناراضگی ۔ نشہ کے عادی افراد، جرائم پیشہ افراد ، کارخانہ کے کاری گر سب سے پولیس نے چھان بین کر لی ، لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔پھر اچانک انچارج انوسٹی گیشن و قائم مقام ایس ایچ او یو سف مان کو بارہ سالہ عظیم سے تفتیش کا خیال آیا۔ عظیم کے بارے میں پُوچھا گیا تو پتا چلا کہ عظیم نے اچانک اپنے بازؤوں پر بلیڈ مار کر خود کو ذخمی کر لیا ہے۔ ایس ایچ او نے شک مزید بڑھنے پر اس کی مختلف زاویوں سے ریکی شروع کردی اور بچی کے والد سے بچی کی لعش ملنے کا سارا واقعہ دوبارہ سنا ۔ اب پولیس کو مکمل طور پر یقین ہو گیا تھا کہ بچی کے قتل میں عظیم کا کوئی نہ کوئی ہاتھ ضرور ہے یا اس کو وقوعہ کا علم ہے۔
پولیس نے واقعہ کے آٹھ ماہ بعد تفتیش کے لئے عظیم کو حراست میں لیا اور تھانہ میں لا کر پوچھا تو اس نے ساری حقیقت بیان کر دی ۔عظیم نے جرم کا اعتراف کر تے ہوئے بتایا کہ اس نے ہی ذونیرہ کو گلہ دبا کر قتل کیا ہے۔ جب وہ اس دن گھر کا سودا سلف لینے گیا تواس کے ساتھ ذونیرہ بھی گئی تھی مگر راستے میں اس کے ذہین میں شیطان آگیا اور فحش فلمیں جو وہ موبائل پر دیکھتا تھا اس کی وجہ سے وہ ذورنیرہ کو اپنے ساتھ پہلے قبرستان لے گیااور زیادتی کی کوشش کی مگر بچی نے شور کیا تو پاس بڑا شاپر بیگ اس کے منہ میں ٹھونس دیا مگر ڈر لگا کہ ذونیرہ استاد کو بتا دے گی تو پچھے قبر پر پڑی ایک پھولوں کی مالالے کر ذونیرہ کا گلا گھونٹ دیا ۔ عظیم کو تو جیل بھیج دیا گیا ہے ، لیکن کیا یہ ہمارے معاشرے کا المیہ نہیں کے چھوٹے چھوٹے بچے موبائل پر فحش اور غیر اخلاقی فلمیں دیکھتے ہیں ، اور بہت چھوٹی سے عُمر میں وہ کر بیٹھتے ہیں جو وہم و گُمان میں بھی نہیں ہوتا ، بچوں کی اخلاقی تربیت معاشرے کے ہر فرد فرض ہے، خُدارا اپنے بچوں ار بچیوں کو اِن غیر اخلاقی سرگرمیوں سے بچائیں، اور پیارے بچوکل آپ بھی ماں باپ بنیں گے براہ مہربانی اپنے نفس کو بچائیں اور اُسے صاف سُتھرا رکھیں۔

 

title

Click to add text, images, and other content

Be Member Today



Visa Consultants in Pakistan



PAK SHAYARI

Urdu Shayari [8]

Khoobsoorat Lafz[3]

Funny Shayari [7]

Nay Saal ki Shayari [5]

Ahmed Faraz [2]

******************************************

URDU SMS

Funny Urdu SMS [48]

Romantic Urdu SMS [1]

******************************************

SACHI KAHANIAN

Main Qasam Nahin Khaoon Gi

******************************************

Recent Videos

کالم کہانی





******************************************

DESI KAHANIAN BOOKS






******************************************

Real time visitors



 

Flag Counter